“ناشکرا انسان” زاویہ سے اقتباس
بہت ساری چیزیں طبیعت پر بوجھ ڈالتی ہیں اور تسلسل کے ساتھ ڈالتی ہیں، تو
میں یہ سمجھتا ہوں کہ کچھ چیزیں جو خدا کی طرف سے ہوتی ہیں، اور جو ہماری
طبیعتوں کے اوپر بوجھ ڈالتی ہیں، ان میں تسلسل کا رنگ آجاتا ہے، اور وہ بہت
دور تک دیر تک پھیل جاتی ہیں۔ ہم اسے اللہ کی مصلحت کہہ کر اپنے آپ کو
تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے سوا چارہ بھی نہیںہوتا۔ لیکن یہ سب
کچھ کر چکنے کے بعد بھی تسلی نہیں ہوتی انسان کی، اور وہ زیادہ جاننا چاہ۔
ہے۔ ایسا کیوں ہوا اور کیوں ہوتا رہتا ہے؟ مثلا یہ کہ چھوٹا بچہ ہے۔ اس کو
کینسر ہوگیا ہے تو انسان بڑا سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ اِس کا کیا